خیبر پختونخوا میں آنکھوں کی بیماری (کنجیکٹیوائٹس) کی وباء – علامات، وجوہات اور احتیاطی تدابیر
خیبر پختونخوا میں آنکھوں کی بیماری (کنجیکٹیوائٹس) کی وباء
حالیہ دنوں میں خیبر پختونخوا (KPK) کے مختلف شہروں اور دیہاتوں میں آنکھوں کی بیماری کنجیکٹیوائٹس (Conjunctivitis) جسے عام زبان میں "آنکھوں کا زکام" یا "سرخ آنکھ" بھی کہا جاتا ہے، تیزی سے پھیل رہی ہے۔ یہ بیماری وبائی شکل اختیار کرچکی ہے اور اسکولوں، دفاتر اور گنجان آبادی والے علاقوں میں خاص طور پر زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔
آنکھوں کی یہ بیماری عام طور پر وائرس یا بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتی ہے، اور چونکہ یہ بہت تیزی سے ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہوتی ہے، اسی لیے یہ وبائی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق اس وباء کے بڑھنے کی ایک بڑی وجہ صفائی کے ناقص حالات، زیادہ بھیڑ والے مقامات اور بار بار آنکھوں کو ہاتھ لگانا ہے۔
کنجیکٹیوائٹس کیا ہے؟
کنجیکٹیوائٹس دراصل آنکھ کی باریک جھلی (Conjunctiva) کی سوزش کو کہا جاتا ہے۔ یہ جھلی پلک کے اندرونی حصے اور آنکھ کے سفید حصے کو ڈھانپتی ہے۔ جب اس میں انفیکشن یا سوزش ہو جاتی ہے تو آنکھ سرخ ہو جاتی ہے، پانی آتا ہے اور خارش یا جلن محسوس ہوتی ہے۔
اس وباء کی عام علامات
کنجیکٹیوائٹس کی علامات درج ذیل ہو سکتی ہیں:
- آنکھوں کا سرخ ہونا
- آنکھوں سے پانی یا پیپ آنا
- آنکھوں میں جلن اور خارش
- آنکھوں میں بوجھ اور دھندلا دیکھنا
- روشنی دیکھنے میں تکلیف
- پلکوں کا سوج جانا
یہ بیماری کیسے پھیلتی ہے؟
کنجیکٹیوائٹس بہت زیادہ متعدی (Infectious) بیماری ہے۔ یہ درج ذیل طریقوں سے ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہو سکتی ہے:
- ایک متاثرہ شخص کی آنکھ یا ہاتھ کو چھونے سے
- مشترکہ استعمال کی اشیاء جیسے تولیہ، تکیہ یا رومال استعمال کرنے سے
- متاثرہ شخص کے قریب بیٹھنے یا بات کرنے سے
- بچوں میں کھیل کود کے دوران ایک سے دوسرے میں منتقل ہونا
خیبر پختونخوا میں صورتحال
محکمہ صحت کے مطابق اس وقت خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع میں آنکھوں کی بیماری کے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ خاص طور پر پشاور، مردان، نوشہرہ، صوابی، سوات اور قریبی علاقوں میں مریضوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اسپتالوں میں روزانہ بڑی تعداد میں مریض رجوع کر رہے ہیں، جن میں اسکول کے بچے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔
کیا یہ بیماری خطرناک ہے؟
عام طور پر کنجیکٹیوائٹس جان لیوا نہیں ہوتی، لیکن اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔ مثلاً شدید انفیکشن، کارنیا (قرنیہ) کا متاثر ہونا یا بینائی پر عارضی اثرات۔ خاص طور پر ذیابطیس یا کمزور قوت مدافعت والے مریضوں کو زیادہ احتیاط کرنی چاہیے۔
علاج اور احتیاطی تدابیر
کنجیکٹیوائٹس کا علاج زیادہ تر گھریلو احتیاط اور سادہ طبی تدابیر سے کیا جا سکتا ہے۔ ان میں شامل ہیں:
- آنکھوں کو بار بار ٹھنڈے اور صاف پانی سے دھونا
- ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کوئی بھی آئی ڈراپ یا مرہم استعمال نہ کریں
- تولیہ، تکیہ یا رومال کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں
- آنکھوں کو ہاتھ لگانے سے پرہیز کریں
- متاثرہ بچوں کو اسکول نہ بھیجیں تاکہ بیماری مزید نہ پھیلے
- اینٹی بائیوٹک یا اینٹی وائرل آئی ڈراپس صرف ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں
لوگوں میں عام غلط فہمیاں
ہمارے معاشرے میں آنکھوں کی بیماری سے متعلق کچھ غلط فہمیاں بھی پائی جاتی ہیں، جیسے:
- "آنکھ میں نظر ڈالنے سے بیماری لگ جاتی ہے" – یہ صرف ایک مفروضہ ہے، حقیقت نہیں۔
- "گھر کے ٹوٹکے ہمیشہ بہتر ہوتے ہیں" – حقیقت یہ ہے کہ بغیر تشخیص کے ٹوٹکے نقصان دہ بھی ہو سکتے ہیں۔
- "یہ بیماری خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہے" – اکثر کیسز میں ٹھیک ہو جاتی ہے لیکن بعض اوقات پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔
کیا کرنا چاہیے؟
اگر کسی شخص کو آنکھوں میں سرخی، پانی آنا یا شدید جلن محسوس ہو تو فوراً قریبی اسپتال یا ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ بیماری کو چھپانے یا معمولی سمجھنے کے بجائے بروقت تشخیص اور علاج زیادہ فائدہ مند ہے۔
حکومتی اقدامات
خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت نے عوام میں آگاہی مہم شروع کی ہے تاکہ لوگ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔ اسکولوں میں بچوں کو خصوصی ہدایات دی جا رہی ہیں کہ وہ اپنے رومال اور تولیے الگ رکھیں اور آنکھوں کو بار بار نہ چھوئیں۔ اس کے علاوہ اسپتالوں میں مفت معائنہ اور ابتدائی علاج کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
عوام کے لیے پیغام
یہ بیماری قابلِ علاج ہے اور زیادہ تر کیسز میں چند دنوں میں ٹھیک ہو جاتی ہے، لیکن اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سب کو اپنی ذاتی اور اجتماعی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔ صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں، آنکھوں کو بار بار دھوئیں، اور اگر آپ یا آپ کے بچے متاثر ہیں تو بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر جانے سے پرہیز کریں۔

Comments
Post a Comment